3

افطاری میں یہ چیزیں مت کھائیں

اسلامی مہینوں میں ماہ صیام کو خاص اہمیت اور مقام حاصل ہے، اس ماہ دنیا بھر میں مسلمان بخوشی روزے رکھتے ہیں۔ روزے رکھنے والا شخص سحری کھانے کے بعد سارا دن خود کو کھانے پینے سے روکے رکھتا ہے اور مغرب کے وقت افطاری کرتا ہے۔ ایک روزہ دار کے لئے سارے دن بھوکے پیٹ رہنے کے

بعد افطاری نہایت اہمیت کی حامل ہوتی ہے، لیکن کھانے میں بد پرہیزی کے باعث صحت پر منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں، کیوں کہ افطاری کے وقت ہر کوئی بہت زیادہ اور بہت کچھ کھانا چاہتا ہے۔ تو یہاں ہم آپ کو بتائیں گے کہ افطاری کے وقت آپ کو کیا اور کس طرح کھانا چاہیے۔پھل کا صحیح استعمال: پھل کے ساتھ روزہ افطار کریں یا کھانا کھانے کے بعد انہیں کھایا جائے، یعنی اسے کھانے کے ساتھ ملانا درست نہیں کیوں کہ ایسا کرنے کی صورت میں کھانا ہضم ہونے میں مسئلہ پیدا ہو سکتا ہے۔پنیر اور مچھلی کا استعمال: ہمارے جسم کا اندورنی نظام قدرتی طور پر کچھ اس طرح سے بنا ہے جو ایک وقت میں ایک طرح کا پروٹین ہی حاصل کر سکتا ہے لہذا پنیر کو اخروٹ اور مچھلی کے گوشت کو عام گوشت کے ساتھ ملا کر ہرگز استعمال

نہ کریں کیوں کہ ایسا کرنے سے نظام انہضام میں پیچیدگیاں پیدا ہو سکتی ہیں ۔سٹرس سے بھرپور اور دودھ سے بنی غذائیں: ایسڈ دودھ جما کر معدے کو متاثر کر سکتا ہے۔ پروٹین اور نشاستہ دار غذا کا اکٹھا استعمال دانشمندانہ فیصلہ نہیں۔ لہذا سٹرس سے بھرپور غذائیں یا پھل اور دودھ سے بنی خوراک کو باہم ملا کر استعمال مت کریں۔کھانا آہستہ آہستہ کھائیں: کھانا کھانے میں جلدی مت کریں کیوں کہ سارا دن بھوکا رہنے کے بعد اگر آپ کا جسم یک دم بہت زیادہ غذا حاصل کر لیتا ہے تو یہ پیٹ میں ہوا پیدا کرنے سمیت معدے کے دیگر امراض کو جنم دے سکتا ہے، لہذا کھانا آہستہ آہستہ کھائیں۔تربوز میں 92 فیصد پانی موجود ہوتا ہے، جس کی وجہ سے یہ انسانی صحت کے لیے بہترین غذا ہے

جو اس موسم میں پانی کی کمی کو دور کرتی ہے۔ سخت گرمی کے باعث زیادہ مقدار میں پانی پینے کے باوجود انسانی جسم میں پانی کی کمی رہ جاتی ہے۔لیکن ماہرین صحت کے مطابق تربوز میں ایسی جزیات پائی جاتی ہیں، جو نہ صرف گرمی کم کرنے میں مدد دیتی ہیں ، بلکہ وہ انسانی جسم میں پانی کی نمکیات کو بھی کنٹرول کرتی ہیں۔اسی طرح تربوز کے ایک کپ میں 46 فیصد کیلوریز سمیت وٹامن سی اور وٹامن اے بھی بھاری مقدار میں پایا جاتا ہے۔خربوزوں میں بھی بیٹا کروٹین اور وٹامن اے پائے جاتے ہیں جو نہ صرف آپ کے سر کے جلدی خلیات کی نشوونما کو کنٹرول کرتے ہیں بلکہ جلد کی اوپری تہہ کی چمک بھی بڑھاتے ہیں۔ یہ چہرے پر جلد کو مردہ ہوکر پرت کی شکل میں بھی تبدیل نہیں ہونے دیتے۔لیکن خربوزے کو افطاری میں استعمال کرنے سے اجتناب کرنا چاہئے ۔اس موسم میں فالسے آسانی بلکہ انتہائی سستے داموں دستیاب ہیں، یہ پھل ہیٹ اسٹروک سے بچاؤ میں مدد دیتا ہے جبکہ معدے کے لیے بھی بہترین ہے جو جسم کو ٹھنڈک پہنچانے کے ساتھ جسم میں پانی کی کمی دور کرتا ہے۔اللہ ہم سب کا حامی وناصر ہو۔آمین

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں