76

وہ ملک جہاں مرد عورتوں کے غلام ہیں مزید جانیے

جب سے ہوش سنبھالا ہے اکثر عورتوں کی گفتگو میں یہی شکوہ سنتی آئی ہوں کہ فلاں لڑکے کی شادی کیا ہوئی سبھی کو بھول گیا۔ اس گفتگو کے دوران کچھ اس طرح کے جملے سنائی پڑتے ہیں ”نہ جانے اس عورت نے کیا کالا جادو کر دیا ہے کہ بس اسی کا ہو گیا ہے“ ، ”اپنی بیوی کے سوا کسی کی سنتا ہی نہیں“

، ”وہ تو اپنی بیوی کا غلام بن گیا ہے“ وغیرہ وغیرہ۔ یہ وہ باتیں ہیں جو یہ سوچنے پر مجبور کر دیتی ہیں کہ کیا واقعی مرد اتنے سادہ ہوتے ہیں کہ عورت کی ہاں میں ہاں ملاتے رہیں اور ان کے غلام تک بن جائیں؟اپنے گرد و پیش پر نظر ڈالیں تو ہم پاتے ہیں کہ سماج کے ہر وعظ و نصیحت کا رخ خواتین کی طرف رہتا ہے۔

انہیں تلقین کی جاتی ہے کہ وہ مرد یعنی اپنے شوہر کی پیروی کریں۔ یہاں تک کہ اسلام نے بھی مرد کو عورت کا ’حاکم‘ قرار دیا ہے۔ مذہب کے مطابق ایک فرمابردار بیوی ہی آخرت میں اچھے انجام کی حقدار ہوگی۔ برصغیر کے سماجی منظرنامے پر بھی نظر ڈالیں تو عورت کا مرد سے دب کر رہنا، اس کا حکم ماننا، یہاں تک کہ اس کے ہاتھوں مار کھانا معمول کی بات سمجھا جاتا رہا ہے۔ مشرق کی عمومی نفسیات میں ایک عورت کا تصور ہی دبی کچلی، سہمی اور ایسی بے بس مخلوق کا ہے جو اپنا گھر بسائے رکھنے کے لیے مرد کا ہر ظلم اور زیادتی برداشت کرتی جاتی ہے اور اف تک نہیں کرتی۔ یہی وجہ ہے تحریک نسائیت کے نام پر عورت کو مرد کے مساوی حقوق دلانے، اسے خودمختار بنانے اور سماجی طور پر مضبوط کرنے کی جدو جہد برسوں سے چلی آ رہی ہے۔ البتہ فیمنزم کی اس لڑائی سے الگ بھی تصویر کا ایک پہلو ہے۔ میرا سوال ہے کہ کیا سبھی عورتیں مظلومیت کی مثال ہوتی ہے؟ ، کیا سب کی سب مرد کے ہاتھوں جبر کا نشانہ ہی بنائی جاتی رہی ہیں؟

ارے نہیں جناب۔ اس صنف نازک میں بھی بہت دم ہے۔ جہاں ایک مرد اپنی جسمانی طاقت کے ذریعے عورت پر قابو پانا چاہتا ہے، وہی بہت بار عورت اتنی طاقتور نہ ہوکر بھی مرد پر قابو پا جاتی ہے۔ ایسی بہت سی مثالیں موجود ہیں جہاں عورتیں مردوں پر اس قدر حاوی رہتی ہیں کہ اگر وہ آدھی رات کو کہیں کہ یہ دن ہے تو شوہر فوراً ایمان لے آتا ہے کہ ہاں دن ہے اور اگر وہ دن میں کہیں کہ یہ رات ہے تو شوہر اس سے اختلاف کے بجائے چادر اوڑھ کر سو رہتا ہے۔ اس قبیلے کے مرد حضرات کو اپنے یہاں بہت سے لقب عطا ہوئے ہیں جن میں زن مرید اور جورو کا غلام خصوصیت سے قابل ذکر ہیں۔مزید جاننے کے لیے وڈیو دیکھیں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں