4

عورت ایک وقت میں چار شادیاں کیوں نہیں کرسکتی؟

عورت چار شادیاں کیوں نہیں کرسکتی؟یادرہے کہ اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے جس میں زندگی کے ہر پہلو پر روشنی ڈالی گئی ہے جہاں تک بات ہے شادیوں کی تو شریعت مطہرہ میں مرد کو اللہ نے چار شادیوں کی اجازت عطا کی ہے جبکہ عورت ایک وقت میں ایک ہی شادی کرنے کی پابند ہے ۔چارشادیاں جائز ہونے کے پیچھے کیا وجہ بیان کی جاتی ہے ؟یعنی شریعت کے اس حکم کے پیچھے کیا حکمت ہے ۔یادرہے کہ اسلام سے پہلے معاشروں میں بھی ایک سے زائد شادیوں کا رواج عام تھا اس زمانے میں جنگیں بہت زیادہ ہوتی تھیں جن میں عموما مرد بہت زیادہ مارے جاتے تھے جس کی وجہ سے معاشرے میں خواتین کی تعداد مرد وں کے مقابلے میں کئی گنا بڑھ جاتی تھی اس مسئلے کے حل کے لئے لوگوں نے ایک سے زائد عورتوں سے شادیاں کرنا شروع کر دیں۔

اس کے علاوہ بیشتر رؤسا بھی ایک سے زائد شادیاں کیا کرتے تھے اسلام نے اس معاشرتی تقاضے کے پیش نظر ازدواج کی تعداد کو بالکلیہ حرام تو قرار نہیں دیا مگر اس کی حوصلہ شکنی کی اور ایک سے زائد شادی کرنے کے لئے کئی شرائط لگائیں تاکہ مرد اپنی بیویوں کے درمیان اعتدال قائم کر سکیں۔ آج کل اگرچہ زمانہ قدیم جیسی جنگیں نہیں ہوتیں مگر پھر بھی عام طور پر مردوں کی نسبت خواتین کی تعداد زیادہ ہے پاکستان ہی کی مثال لیجئے یہاں خواتین کی آبادی مردوں کی نسبت خواتین کی تعداد مردوں کی نسبت سے چار فیصد زیادہ ہے اب اگر ایک سے زائد سے شادی کرنا بالکل ممنوع قرار دے دیا جائے تو اس چار فیصد آبادی کا کیا بنے گا؟اللہ تعالیٰ کی حکمت ہے جو اللہ ہی کے علم میں ہے لیکن بظاہر جو وجہ نظر آنے والی تھی وہ آپ کے سامنے پیش کی گئی ہے۔

ایک بار پھر آپ کو اس بارے میں تنبیہہ کرتے چلیں کہ مرد چاہے دو شادیا ں کرے تین کرے چار کرے وہ کر سکتا ہے لیکن اس کو تمام بیویوں میں عدل اور برابر ی کرنا ہوگی۔ کہتے ہیں کہ حضرت علی ؓ کے دور میں چند اہل علم کے پاس کچھ عورتیں آئیں اور یہ سوال کیا کہ مرد حضرات کے لئے تو چار شادیاں جائز ہیں وہ ایک وقت میں چار عورتوں کے ساتھ شادی کر سکتے ہیں لیکن عورتوں کے لئے ایسا کرنا جائز کیوں نہیں ہے تو کوئی بھی ان عورتوں کو تسلی بخش جواب نہ دے سکا تو یہ معاملہ حضرت علی ؓ کی خدمت میں پیش کیا گیا جس پر حضرت علی ؓ نے اپنے خادم سے ایک برتن میں پانی لانے کو کہا اور فرمایا کہ ان عورتوں میں سے چارعورتوں کو ایک ایک کوزہ بھی دے دو جب پانی سے بھرا ہوا برتن لایا گیا تو حضرت علی ؓ نے ان چاروں عورتوں سے کہا کہ اس برتن سے اپنے اپنےحصے کا پانی نکال لو جب عورتوں نے اپنے حصے کا پانی نکال لیا اور پھر اپنے خادم سے فرمایا کہ یہ برتن خالی کر کے لے آؤ اب آپ ؓ نے ان چاروں عورتوں کو حکم دیا کہ اپنے اپنے کوزے کا پانی واپس اس برتن میں ڈال دیں۔

جب ان عورتو ں نے واپس ڈالا تو حضرت علی ؓ نے فرمایا کہ اب اس پانی سے اپنے اپنے پانی کو پہچانو اور اسے الگ کرو تو ان عورتوں نے عاجزی ظاہر کی اس پر حضرت علی ؓ نے فرمایا کہ یا درکھو کہ اگر عورت ایک وقت میں چار مردوں سے شادی کرے گی تو وہ اپنی اولاد کا کیا کرے گی کہ اس کی اولاد کا اصلی والد کون ہے اسی لئے عورت کو ایک وقت میں چار شادیوں کی اجازت نہیں دی گئی تا کہ ان کی اولاد کی پہچان ہو سکے یہ سب اللہ تعالیٰ کی حکمتیں ہیں۔اللہ نے جو شریعت مطہرہ میں احکام مسلمانوں کے لئے مختص کئے ہیں ان کے بارے میں ہمیں زیادہ سوالات نہیں کرنے چاہئیں بلکہ جس طرح سے قرآن و حدیث سے حکم ملے اس طرح پر عمل پیرا ہوجانا چاہئے اللہ تعالیٰ کے احکامات پر حجتیں کر نا خطر ناک بھی ہوسکتا ہے اس سے اجتناب کرنا چاہئے ۔شکریہ

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں