4

وہ کام جن سے بیوی حرام ہوجاتی ہے۔

نکاح کا بندھن جتنا مضبو ط ہے اتنا ہی یہ بندھن نازک بھی ہے اسلام میں ایسے گناہوں کی نشاندہی کی گئی ہے جو کہ نکاح کے بندھن کو ختم کر دینے والے ہیں یہ گناہ کون سے ہیں ؟اس تحریر میں ہم آپ کو چند پاکیزہ رشتوں کی کچھ ایسی حدود بتانے جارہے ہیں جن میں انتہائی احتیاط کی ضرورت ہے اگر ان رشتوں میں ذرا برابر بھی بے احتیاطی کی جائے گی تو بیوی اپنے شوہر کے لئے ہمیشہ ہمیشہ کے لئے حرام ہوجاتی ہے یعنی ایسا ہونے سے میاں بیوی کا نکاح ٹوٹ جاتا ہے ۔نکاح کے بعد ایک پاکیزہ رشتہ جس میں احتیاط کی ضرورت ہے وہ ہے ساس اور داما د کا ۔یاد رہے کہ نکاح کے بعد بیوی کی ماں کو بھی ویسے ہی سمجھنا چاہئے جیسے کہ اپنی ماں کو سمجھاجاتا ہے ۔

داماد کو چاہئے کہ جو حدود شریعت نے طے کی ہیں ان حدود کی پاسداری کرے کیونکہ نکاح صرف بیوی کے ساتھ ہوتا ہے اور اس کی زوجیت کے لئے صرف اس کی بیوی حلال ہوتی ہے لہٰذا باقی سب رشتوں کے ساتھ برتاؤ میں ایک مرد کو بڑے احتیاط کی ضرورت ہوتی ہے بعض اوقات داماد اور ساس کی عمر میں زیادہ فرق نہیں ہوتا اگر خدانخواستہ داماد اور ساس میں کوئی ایسا معاملہ چل پڑے جس کی وجہ سے ان کے تعلقات میں بدنیتی شامل ہوگئی اور وہ ایک دوسرے کے اس طرح سے قریب ہوگئے جس میں شہوت کا عمل داخل ہوا تو اس مرد کے لئے اس کی بیوی ہمیشہ کے لئے حرام ہوجائے گی بلکہ ساس کو اس نیت سے دیکھنا یا چھونا بھی نکاح کو ساقط کر دیتا ہے ۔اسی طرح سسر اور بہو کا رشتہ بھی ہے جس میں احتیاط برتنے کی ضرورت ہے یہ سب رشتے ایسے ہیں جو کہ ہیں۔

تو محرم لیکن ان کی حدود ہیں اب سسر کے لئے یہ حکم ہے کہ بہو کو اپنی بیٹی جیسی سمجھے اس کو بیٹی کا درجہ دے بعض گھروں میں سسر بہو بامر مجبوری اکثر اوقات اکیلے ہوتے ہیں ان میں اگر خدانخواستہ کوئی ایسی صورت پیدا ہوجائے جوکہ ان کو شہوت کی نیت سے قریب کر دے چاہے کوئی ایک دوسرے کے قریب شہوت کی نیت سے جائے تو اس صورت میں بھی بیوی اپنے شوہر کے لئے حرام ہوجائے گی یادر ہے کہ آج کل رشتوں میں پہلے تو بے تکلفیاں اختیار کی جاتی ہیں اور ان بے تکلفیوں کو برا نہیں جانا جاتا جو بعد میں اس حد تک چلے جاتے ہیں اور پھر مولوی اور مفتی حضرات کے پیچھے گھومتے پھرتے ہیں کہ ایسی صورت ہوگئی ہے کہ کوئی راستہ نکالے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں