5

جس گھر میں عورت کھڑے ہوکر کنگھی کرے اس گھر میں اللہ کا کونسا عذاب نازل ہوتا ہے ؟

حدیث کے عربی الفاظ الارفا کا مطلب ہے کہ ہر وقت انسان بناؤ سنگھار میں لگا رہے سہی بات یہ ہے کہ ان دنوں جس نے بال رکھے ہوئے ہیں وہ بالوں کی تکریم کرے اور وہ روزانہ بالوں کو کنگھی کرنے سے منع کرنیوالی حدیث میں کوئی تعارض نہیں ہے اسی لیے ہر شخص کو اپنے بال سنوارنے کا موقع دیا گیا ہے ۔ اور ہر وقت اسی میں لگے رہنے سے روکا گیا ہے ۔ اور ہر وقت اسی میں لگے رہنے سے روکا گیا ہے چنانچہ اپنے بالوں کو سنوار کر رکھے لیکن ہر وقت اس میں نہ لگا رہے ۔

احادیث کا اعلیٰ ترین مفہوم ہے اور جابر بن عبداللہ ؓ فرماتے ہیں کہ ہمارے پاس نبی پاک ﷺ تشریف لائے ایک بکھرے ہو پراگندہ والوں کیساتھ دیکھا تو فرمایا اسے اپنے بالوں کو سنوارنے کی کوئی چیز نہیں ملتی اس کو ابوداؤد اورنسائی نے روایت کیا ہے کہ زرفانی نے اسے صحیح قرار دیا ہے ۔ ایک دن چھو ڑ کر بالوں کو سنوارنا مستحب ہے بالوں کو سیدھا کرنا اور تیل لگانا بھی شامل ہے ۔ کیا رات وقت کنگھی کرنا جائز ہے یا نہیں ؟تو معاملہ یہ ہے کہ ایک دن چھوڑ کر ایک دن آپ نے تیل لگانا ہے ۔

لوگوں میں پھیلی ہوئی بہت ساری غلط فہمیاں ہیں ایک یہ ہے کہ رات کو جھاڑو لگانے کو غلط سمجھنا ٹوٹی ہوئی کنگھی سے کنگھا نہ کرنا غسل خانے میں پیشاب کرنے کو غلط سمجھنا ۔ دانت سے روٹی کاٹ کر کھانے غریبی نہیں آتی ہے یہ ایسی چیزیں ہوتی ہے جن پر غور کرنا بہت ضروری ہے ۔ یہ عوام کے اندر پھیلی ہوئی کچھ باتیں ہیں ۔عورتوں کا کھڑے کھڑے بال باندھنے کا کوئی مسئلہ نہیں ہے ۔خواب میں کنگھی کرنے والا انسان اپنی مراد پاتا ہے ۔ اگر کوئی یا کوئی اور اس کو کنگھی کررہا ہے ۔ اس کا مطلب یہ ہوگا ایسا شخص اس کی مدد کرے گا اور اس کا قرض اُتارے گا ۔

حضرت ابراہیم ؑ نے خواب کنگھی کرنے کی تعبیر بیان کی تھی ۔ جس مرد نے خواب میں داڑھی کو کنگھی کی اور اس میں سے بال نکالا تو گویا وہ مال میں سے زکوٰۃ نکالے گا ۔ قرض سے نجات ملے گی غموں سے نجات پائے گا۔ حضرت انس بن ثابت ؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے کثرت سے سر مبارک میں تیل ڈالتے تھے اور کنگھا کرتے تھے ۔ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا تو جس کے پاس بال ہوں وہ اس کی عزت ہے۔

وہ ان کو دھوئے تیل لگائے اور کنگھا کرے۔ حضرت انس بن مالک ؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی پاک ﷺ کے پاس ایک عطر دان تھا اس سے آپ خوشبو لگایا کرتے تھے میں نے کبھی نہیں دیکھا کسی نے حضورﷺ کو خوشبو پیش کی اور آپ نے رد کی ہو ۔ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ تم میں سے جس شخص کو خوشبو پیش کی جائے تو ا س کو رد نہ کی جائے۔اللہ تعالیٰ آپ ﷺ کے اسوہ حسنہ پر عمل کرنے کی توفیق عطاء فرمائے۔شکریہ

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں