4

کیا زوال کے وقت قرآن پڑھ سکتے ہیں؟

حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے طلوع آفتاب (سورج نکلتے وقت)، وقت استواء (جب سورج بالکل درمیان میں ہوتا ہے) اور غروب آفتاب (سورج ڈوبتے وقت) نماز پڑھنے سے منع فرمایا، لیکن قرآن پاک کی تلاوت کے لئے کوئی وقت کی پابندی نہیں لگائی گئی۔ احادیث مبارکہ میں ہے:عَنْ مُوسَی بْنِ عُلَيٍّ عَنْ اَبِيهِ قَالَ سَمِعْتُ عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ الْجُهَنِيَّ يَقُولُا ثَـلَاثُ سَاعَاتٍ کَانَ رَسُولُ اﷲِصلیٰ الله عليه وآله وسلميَنْهَانَا اَنْ نُصَلِّيَ فِيهِنَّ اَوْ اَنْ نَقْبُرَ فِيهِنَّ مَوْتَانَا حِينَ تَطْلُعُ الشَّمْسُ بَازِغَةً حَتَّی تَرْتَفِعَ وَحِينَ يَقُومُ قَائِمُ الظَّهِيرَةِ حَتَّی تَمِيلَ الشَّمْسُ وَحِينَ تَضَيَّفُ الشَّمْسُ لِلْغُرُوبِ حَتَّی تَغْرُبَ.موسیٰ بن علی اپنے والد سے بیان کرتے ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ہے کہ حضور نبی اکرم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمیں تین اوقات میں نماز پڑھنے اور اموات کو دفن کرنے سے روکتے تھے: ایک طلوع آفتاب کے وقت جب تک وہ بلند نہ ہو جائے، دوسرا ٹھیک دوپہر کے وقت یہاں تک کہ زوال نہ ہو جائے، تیسرا غروبِ آفتاب کے وقت تاوقتیکہ وہ مکمل غروب نہ ہو جائے۔مسلم، الصحيح، 1: 568، رقم: 831، دار احياء التراث العربي بيروتاحمد بن حنبل، المسند، 4: 152، رقم: 17415، موسسة قرطبة مصرعَنِ ابْنِ عُمَرَ اَنَّ رَسُولَ اﷲِ صلیٰ الله عليه وآله وسلم قَالَ لَا يَتَحَرَّی اَحَدُکُمْ فَيُصَلِّي عِنْدَ طُلُوعِ الشَّمْسِ وَلَا عِنْدَ غُرُوبِهَ۔

حضرت عبد اﷲ ابن عمر رضی اﷲ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کوئی سورج طلوع ہوتے وقت اور سورج غروب ہوتے وقت نماز پڑھنے کا قصد نہ کرے۔بخاري، الصحيح، 1: 212، رقم: 560، دار ابن کثير اليمامة بيروت مسلم، الصحيح، 1: 567، رقم: 828احمد بن حنبل، المسند، 2: 33، رقم: 4885امام مالک، الموطا، 1: 220، رقم: 515، دار احياء التراث العربي مصراس لیے مذکورہ اوقات میں نماز کی ممانعت ہے۔ نماز کے علاوہ اذکار و تلاوتِ کلامِ پاک کے لئے ایسی کوئی پابندی نہیں ہے۔واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں