7

جس گھر میں آیت الکرسی پڑھی جائے وہاں کیا ہوتا ہے؟

مسلمانوں کو اللہ تعالی نے دو سب سے بڑے تحفوں سے نوازا ہے وہ ایسے تحفے ہیں جو کہ ہم سے پہلی کسی امت کو نہیں دی گئی ۔ ان تحفوں کے فیض سے ہم دین اور دنیا دونوں جگہ فیض اٹھا سکتے ہیں ان میں سے ایک قرآن ہے اور دوسری سنت ۔قرآن اگر ہمیں ایک لائحہ عمل

دیتا ہے تو سنت اس قرآن کو استعمال کرنے کی چابی ہے جس کے ذریعے ہمیں قرآن اور اس کی آیات کی فضیلت سے آگاہی حاصل ہوتی ہے ۔قرآن کی سب سے بڑی سورت کی 255ویں آیت کو آیت الکرسی کہا جاتا ہے اور اس کی فضیلت احادیث سے ثابت ہے۔

سیدنا ابی بن کعب بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان سے پوچھا:’’اے ابو منذر! کیا تم جانتے ہو کہ تمھارے پاس کتاب اللہ کی سب سے زیادہ عظمت والی آیت کون سی ہے ؟‘‘کہتے ہیں میں نے جواب دیا ،اللہ اور اس کا رسول صلی

اللہ علیہ و آلہ وسلم ہی زیادہ جانتے ہیں ۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے (دوبارہ) پوچھا:’’اے ابومنذر! کیا تم جانتے ہو کہ تمھارے پاس کتاب اللہ کی سب سے زیادہ عظمت والی آیت کون سی ہے ؟‘‘میں نے کہا :(الله لااله الاهو الحي القيوم) (یعنی آیت الکرسی)تورسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے میرے سینے پر ہاتھ مارا اور فرمایا:’’اللہ کی قسم !(تونے درست کہا)اے ابو منذر! تمہیں علم مبارک ہو۔‘‘ – مسلم،کتاب الصلوۃ،باب فضل سورۃ الکہف وآیۃ الکرسی:81امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ تعالی کا کہنا ہے کہ : اسماء بنت یزید بن السکن رضی الله عنها کہتی ہیں کہ

Source: Country92

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں