3

کچھ لوگ پیچھے کے راستہ سے

این این ایس نیوز!اس کا کفارہ توبہ واستغفار ہے۔ یعنی صدق دل سے اللہ رب العزت سے معافی مانگی جائے اور آئندہ اس طرح کی حرکت سے بالکلیہ اجتناب کیا جائے۔ شریعت نے اس کے کفارہ کے لیے کوئی مخصوص عمل مقرر نہیں کیا ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم۔۔۔۔۔دارالافتاء،۔۔۔۔دارالعلوم دیوبند۔۔۔۔ملک مصر میں دو بھائی رہا کرتے تھے۔ ایک بھائی کو علم حاصل کرنے کا بہت شوق تھا۔ جبکہ دوسرا بھائی علم سے دور بھاگتا تھا۔ خدا کا کرنا یہ ہوا کہ علم سے دور رہنے والا بھائی بادشاہ کا خزانچی بن گیا۔ جبکہ دوسرا بھائی علم حاصل کر کے درس دینے لگا۔ درس دینے والے بھائی کے معاشی حالات کچھ اچھے نا تھے۔ جبکہ دوسرا بھائی جو کہ بادشاہ کا خزانچی تھا

.اپنی معاشی حالت او ر بادشاہ سے قربت پر فخر کرتا تھا۔ اور اپنے عالم بھائی کو کہا کرتا کہ علم حاصل کر کے کیا ہوا نا ہوا نا کھانے کو ٹھیک ملتا ہے۔ نا پہننے کو مجھے دیکھو روز نیا لباس اور ایک سے ایک قیمتی لباس جبکہ تم اپنا لباس دیکھ پھٹاپیوند لگا اس کی باتیں سن کر اُس خزانچی کا عالم بھائی اپنے بھائی کی اس سوچ پر افسوس کیا کرتا تھا۔ ایک دن خدا کا کرنا یہ ہوا کہ بادشاہ کے خزانے سے ایک قیمتی ہیرا کھو گیا۔

اس ہیرے کے گم ہونے پر بادشاہ نے اپنے خزانچی کو عہدے سے ہٹا دیا۔ اور اپنے فرض میں کوتاہی برتنے پر دو ماہ کے لیے قید خانے میں قید کر دیا ۔قید سے چھوٹنے کے بعد جب وہ خزانچی رہا ہوا۔ تو نا اس کے پاس عہدہ تھا۔ نا پیسہ اور نا ہی عیش و عشرت کے وہ دن اس کے وہ دوست جو ہر وقت اس کے پاس رہا کرتے تھے۔ اب اس کے سائے سے بھی دور بھاگنے لگے ایک دن جب وہ اپنے مکان میں بیٹھا اپنی قسمت کو رو رہا تھاَ۔ تو اس کا بھائی اس کے پاس آیا جو اب اپنے علم کی بنا پر ایک مشہور عالم تھا۔ اور قیمتی پوشاک پہنتا اور پالکی میں سفر کرتا تھا۔

اس نے اپنے بھائی کو کہا کہ تم فرعون کی وراثت پر اترا رہے تھے۔ جبکہ میرے پاس پیغمبروں کا ورثہ علم تھا۔ اب دیکھو کہ فرعون کی وراثت تمھیں کہاں لے آئے اور پیغمبروں کی وراثت نے مجھے کیا ۔عطا کیا تم خزانے کے مالک سے مفلس بن گئے ۔اور میں مفلسی سے امیر ہوگیا ۔اور یہ سب علم کی سبب ہے۔ کیونکہ علم کی دولت چوری نہیں ہو سکتی۔ جبکہ بادشاہ کا خزانہ چوری ہو جاتا ہے ۔اپنے بھائی کی بات سن کر دوسرا بھائی بہت شرمندہ ہوا ۔بادشاہوں کی قربت اور دربار میں اعلیٰ عہدہ اس بات کا ثبوت نہیں کہ آپ کامیاب ہوگئے ۔صرف علم ہی ایک ایسی دولت ہے ۔جو نا چوری ہو سکتی ہے اور نا خرچ کرنے سے کم ہوتی ہے۔ علم پیغمبروں کی میراث ہے اس لیے اس میں عزت ہے”آج کی بہترین پوسٹس پڑھنے کے لئے نیچے سکرول کریں۔

Source: Country92

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں