3

پنجاب میں تبدیلی! پیپلز پارٹی اور (ق) لیگ مل گئے، اندر ہی اندر پنجاب میں کیا کارروائی ڈالی جا رہی ہے؟ بڑی خبر

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) پاکستان تحریک انصاف کو اقتدار میں آنے کے بعد جن بڑے مسائل کا سامنا کرنا پڑا اُن میں سے ایک سردار عثمان بزدار کی وزیراعلیٰ پنجاب کے عہدے پر تعیناتی اور اس پر موجود تحفظات تھے۔ جبکہ دوسری جانب حکومتی جماعت کو ان کے اتحادیوں کی جانب سے بھی کافی

ٹف ٹائم دیا گیا لیکن حکومت ان کے تحفظات دور کرنے میں کسی طور کامیاب بھی رہی تھی ۔تاہم اب ایک مرتبہ پھر سے عثمان بزدار کے خلاف تحریک عدم اعتماد کا ووٹ لانے اور اس میں حکومت کی اتحادی جماعت کا مبینہ طور پر ساتھ دینے کا انکشاف ہوا ہے۔ اس حوالے سے سینئیر صحافی انصار عباسی نے اپنے کالم میں بتایا کہ گذشتہ اتوار کو پی ڈی ایم رہنماؤں کی اسلام آباد میں ایک اہم ملاقات ہوئی جس میں اہم رہنماؤں بشمول نواز شریف، آصف زرداری نے ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی جبکہ دیگر شرکاء میں شاہد خاقان عباسی، راجہ پرویز اشرف، مولانا فضل الرحمٰن، آفتاب شیرپائو، اختر مینگل اور اویس نورانی شامل تھے۔اگرچہ پی ڈی ایم رہنماؤں نے ملاقات کے حوالے سے بات کرنے سے گریز کی

ا کہ کس نے کس سے رابطہ کیا، لیکن کہا جاتا ہے کہ اس میں پنجاب کا معاملہ اور عثمان بزدار پر پہلے مرحلے کے طور پر بات کی گئی تاکہ تبدیلی لائی جا سکے جس کے بعد مرکز میں تبدیلی آئے گی۔ ذرائع کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی کی قیادت عثمان بزدار کے خلاف عدم اعتماد کا ووٹ لانے کے حق میں تھی۔کہا جاتا ہے کہ ق لیگ والے بھی حمایت کریں گے۔ پیپلز پارٹی نے کہا کہ جو تبدیلی بھی آئے گی وہ آئین کی حدود میں رہتے ہوئے آئے گی۔ مسلم لیگ ن کے رہنماؤں نے کہا کہ وہ اس آپشن (بزدار کی تبدیلی) پر بات کریں گے لیکن کہا جاتا ہے کہ نواز شریف کو اِس وقت دلچسپی نہیں اس کی وجہ یہ ہے

کہ اگر بزدار کو تبدیل بھی کیا گیا اور ان کی جگہ ن لیگ کا اتحاد آیا تو اس سے کچھ تبدیل نہیں ہوگا تاوقت یہ کہ نظام کو درست کیا جائے۔پاکستان پیپلز پارٹی پہلے مرحلے میں پنجاب میں تبدیلی کی حامی ہے۔ مذاکرات میں مولانا فضل الرحمان کے لیے چیئرمین سینیٹ کے عہدے پر بھی بات چیت ہوئی لیکن کہا جاتا ہے کہ مولانا ایسی کسی بھی ”ہائبرڈ تبدیلی” کے لیے تیار نہیں۔ انصار عباسی نے بتایا کہ مرکز میں اِن ہاؤس تبدیلی کے حوالے سے پس منظر میں ہونے والی بات چیت میں احسن اقبال اور خواجہ آصف سمیت کچھ نام سامنے آئے ہیں۔عثمان بزدار وزیراعظم عمران خان کے چہیتے ہیں جن کی وجوہات صرف وہی جانتے ہیں۔ پی ٹی آئی میں کئی لوگ انہیں پسند نہیں کرتے جبکہ جو

لوگ اہم ہیں وہ بھی وزیراعلیٰ کو غیر مؤثر اور نا اہل سمجھتے ہیں لیکن عمران خان ڈٹے ہوئے ہیں کہ وزیراعلیٰ پنجاب وہی رہیں گے چاہے کچھ ہو جائے۔ پی ڈی ایم کے ایک سینئر عہدیدار نے قومی اخبار کو بتایا کہ پس منظر میں تجاویز پر بات ہوئی ہے تاکہ بزدار کے خلاف عدم اعتماد کا ووٹ لایا جائے، انہیں تبدیل کیا جائے اور اس کا نتیجہ عمران خان حکومت کے خاتمے پر ہوگا۔انہوں نے بتایا کہ ذرائع کے مطابق تبدیلی اس وقت تک اہم نہیں ہوتی جب تک نظام درست نہ ہو۔ حکومت کے خلاف اپوزیشن کی تحریک کے دوران، وزیراعظم عمران خان نے گذشتہ جمعرات کو حکومتی اتحادیوں سے ملاقات کی جنہوں نے ان کے سامنے مسائل و شکایات کے انبار لگا دیے کہ انہیں ترقیاتی فنڈز نہیں مل

رہے، مہنگائی بڑھ رہی ہے اور فیصلہ سازی میں انہیں دور رکھا جا رہا ہے۔اس کے علاوہ وزیراعظم عمران خان کو اس وقت مشکل صورتحال کا سامنا کرنا پڑا جب انہوں نے حکومتی اتحادی جماعتوں کے حق میں ظہرانہ دیا جس میں ق لیگ والوں نے شرکت نہیں کی۔ اس صورتحال کے دوران مونس الٰہی نے ٹویٹ کی کہ پی ٹی آئی کے ساتھ ان کی جماعت کا اتحاد ظہرانوں کے لیے نہیں بلکہ ووٹ کے لیے تھا۔ دوسری جانب وزیراعظم عمران خان نے اتحادیوں کو یقین دہانی کروائی کہ ان کے تمام مسائل جلد حل کیے جائیں گے اور وہ ان کا ذاتی طور پر جائزہ لے رہے ہیں۔انصار عباسی کا کہنا ہے کہ دلچسپ بات یہ ہے کہ پی ٹی

آئی کے اتحادیوں کا اچانک عدم اطمینان ایسے وقت پر سامنے آیا ہے جب تبدیلی کی ہوائیں چل رہی ہیں اور پی ڈی ایم جماعتیں انہیں محسوس بھی کر رہی ہیں۔ میڈیا میں ق لیگ کے ذرائع کے حوالے سے اطلاعات ہیں کہ پارٹی پی ٹی آئی کے رویے سے خوش نہیں اور شکایت کی ہے کہ وزیراعظم عمران خان اکثر لاہور آتے ہیں لیکن کبھی ڈپٹی اسپیکر پنجاب اسمبلی پرویز الٰہی سے ملاقات نہیں کرتے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق، وزیراعظم عمران خان نے ق لیگ کے علیل صدر چوہدری شجاعت کی خیریت بھی دریافت نہیں کی۔ وفاقی وزیر طارق بشیر چیمہ، جن کا تعلق ق لیگ سے ہے، کے حوالے سے بھی میڈیا نے بتایا کہ ق لیگ کے پاس عوام کو دکھانے کے لیے ایسی کوئی کارکردگی نہیں جو اب تک حکومت نے دکھائی ہو۔ ان کے حوالے سے میڈیا میں بیان آیا تھا کہ اگر پارٹی نے اپنے معاملات درست نہ کیے تو ہمارے لیے پی ٹی آئی کے ساتھ مزید چلنا بہت مشکل ہے۔ ایم کیو ایم کے لیڈر خالد مقبول صدیقی، وفاقی وزیر فہمیدہ مرزا، جے ڈبلیو پی چیف شاہ زین بگٹی اور دیگر نے بھی اپنے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔

Reference:Hassan Nisar

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں